1468 - عن أنس قال: "بعثني أبو موسى بفتح إلى عمر فسألني عمر وكان ستة نفر من بكر بن وائل قد ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقال: ما فعل النفر من بكر بن وائل قلت: يا أمير المؤمنين قوم قد ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين ما سبيلهم إلا القتل فقال عمر: لئن أكون أخذتهم سلما أحب إلي مما طلعت عليه الشمس من صفراء وبيضاء قلت: يا أمير المؤمنين وما كنت صانعا بهم لو أخذتهم؟ قال لي: كنت عارضا عليهم الباب الذي خرجوا منه أن يدخلوا فيه فإن فعلوا ذلك قبلت منهم وإلا استودعتهم السجن". (عب) .
١٤٦٨۔۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوموسی نے فتح کے ساتھ حضرت عمر کے پاس بھیجا اور قبیلہ بکر بن وائل کے چھ افراد اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے حضرت عمر نے مجھ سے ان کی متعلق پوچھا بکر بن وائل کے اس گروہ نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین وہ قوم اسلام سے برگشتہ ہو کر مشرکوں سے جاملی ہے لہٰذا اب ان کو قتل کے سوا چار ہ کار نہیں ہے حضرت عمر نے فرمایا گر میں ان کو اسلام کی حالت میں پالوں تو مجھے یہ ہراس چیز سے محبوب ہے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے خواہ وہ سونا چاندی ہو۔ میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین اگر آپ ان کو پالیں تو آپ ان کے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے ؟ آپ نے مجھے فرمایا میں ان پر وہی دروازہ پیش کروں گا، جس سے وہ نکل گئے ہیں کہ وہ دوبارہ اس میں داخل ہوجائیں۔ اگر انھوں نے ایسا کرلیا تو میں ان کے اسلام کو قبول کرلوں گا۔۔ ورنہ ان کو قید خانہ کے سپرد کردوں گا۔۔ المصنف لعبدالرزاق۔