14741- "من ولي [على] عشرة فحكم بينهم بما أحبوا أو كرهوا جيء به [يوم القيامة] مغلولة يداه [إلى عنقه] فإن عدل ولم يرتش ولم يحف فك الله عنه، وإن حكم بغير ما أنزل الله وارتشى وحابى فيه شدت يساره إلى يمينه ثم رمي به في قعر جهنم فلم يبلغ قعرها خمس مائة عام". "ك عن ابن عباس"
14741 جو دس آدمیوں پر والی بنا پھر اس نے ان کا من پسند حکم جاری کیا یا ان کی منشاء کے خلاف حکم جاری کیا تو قیامت کے دن اس کو لایا جائے گا کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوں گے اگر اس نے عدل کیا ہوگا، رشوت نہ لی ہوگی اور نہ ظلم کیا ہوگا تو اللہ پاک اس کو آزاد کردے گا اور اگر اس نے حکم جاری کیا ایسا جو اللہ نے نازل نہیں کیا، رشوت لی، اور رشوت ستانی میں دوسروں کی مدد کی تو اس کا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا جائے گا پھر اس کو جہنم کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا اور وہ پانچ سو سال اس گڑھے میں نہیں پہنچے گا۔
مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض)