1489 - (ومن مسند ابن عمر) عن عمر قال: "بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد إلى بني جذيمة فدعاهم إلى الإسلام فلم يحسنوا أن يقولوا أسلمنا فجعلوا يقولون صبأنا صبأنا فجعل خالد بهم قتلا وأسرا ودفع إلى كل رجل منا أسيرا حتى إذ كان يوما أمرنا خالد أن يقتل كل منا أسيره فقلت والله لا أقتل أسيري ولا يقتل رجل من أصحابي أسيره فقدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له صنيع خالد فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ورفع يديه اللهم إني أبرأ إليك مما صنع خالد اللهم إني أبرأ إليك مما صنع خالد". (عب) .
١٤٨٩۔۔ ازمسندا بن عمر (رض)۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ حضور نے خالد بن الولید کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا خالد بن الولید نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی زبان کی وجہ سے اچھی طرح یوں کہنے پر قادر نہ ہوسکے کہ ، اسلمنا، یعنی ہم مسلمان ہوگئے۔ بلکہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلنے لگے صبانا، صبانا، یعنی ہم اپنے پرانے دین سے پھرگئے ہم اپنے پرانے دین سے پھرگئے حضرت خالد بن ولید ان کا مطلب سمجھ نہ سکے انھوں نے دین قبول کرنے سے انکار کردیا ہے وہ یہی سمجھے۔ لہٰذا آپ نے ان کو قتل کرنے اور قیدی بنانے لگ گئے اور ہم میں سے ہر شخص ایک ایک قیدی حوالہ کردیا۔ حتی کہ ایک دن خالد بن ولید کہنے لگے کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے میں نے کہا اللہ کی قسم میں اپنے قیدی کو ہرگز قتل نہ کروں گا۔ اور نہ میرے حامی ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ ہم اسی حال میں حضور کے پاس پہنچے اور خالد بن ولید کا ماجرا آپ کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔ حضور نے سنتے ہی اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور کہا اے اللہ میں خالد کے اس فعل سے بری الذمہ ہوں ۔ اے اللہ میں خالد کے اس فعل سے بری الذمہ ہوں۔ المصنف لعبدالرزاق۔