14893- "يا كعب بن عجرة أعاذك الله من إمارة السفهاء، أمراء يكونون من بعدي لا يقتدون بهديي ولا يستنون بسنتي، فمن دخل عليهم وصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فأولئك ليسوا مني ولست منهم ولا يردون على حوضي، ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فأولئك مني وأنا منهم وسيردون على حوضي يا كعب بن عجرة الصوم جنة والصدقة تطفيء الخطيئة كما يطفيء الماء النار والصلاة قربان أو قال برهان يا كعب بن عجرة، إنه لا يدخل الجنة لحم نبت من سحت النار أولى به يا كعب بن عجرة الناس غاديان فمبتاع نفسه فمعتقها وبائع نفسه فموبقها". "حم وعبد بن حميد والدارمي وابن زنجويه ع حب ك ص وابن جرير طب حل هب عن جابر
14893 اے کعب بن عجرۃ ! اللہ تجھے بیوقوفوں کی امارت سے پناہ دے، میرے بعد ایسے امراء آئیں گے جو میرے راستے پرچلیں گے اور نہ میری سنت کو اختیار کریں گے۔ پس جو شخص ان کے پاس گیا ان کے کذب کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ لوگ مجھ سے نہیں اور نہ میرا ان سے کوئی واسطہ ہے وہ لوگ حوض پر میرے پاس نہ آسکیں گے اور جوان کے پاس نہیں گیا ان کے کذب کی تصدیق نہ کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے وہ لوگ حوض پر میرے پاس ضرور آئیں گے اے کعب بن عجرہ ! روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو یوں بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے ، نماز قربان ہے (یعنی قرب خداوندی کا ذریعہ ہے) یا فرمایا برھان (دلیل ہے) اے کعب بن عجرہ ! ایسا گوشت ہرگز داخل نہ ہوگا جو حرام سے پرورش پایاہو ایسے گوشت کی جہنم کی آگ ہی زیادہ مستحق ہے، اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کے ہیں دونوں صبح کو نکلتے ہیں۔ ایک اپنے نفس کو خرید کر آزاد کردیتا ہے اور دوسرا اپنے نفس کو فروخت کرکے ہلاک کردیتا ہے۔
مسند احمد، عبدبن حمید ، الدارمی، ابن زنجویہ، مسند ابی یعلی، ابن حبان، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور، ابن حرب الکبیر للطبرانی، حلیۃ الاولیاء، شعب الایمان للبیہقی عن جابر (رض)