14957- "يؤتى بصاحب القلم يوم القيامة في تابوت من نار يقفل عليه بأقفال من نار فينظر قلمه فيما أجراه، فإن كان أجراه في طاعة الله ورضوانه فك عنه التابوت، وإن كان أجراه في معصية الله هوى التابوت سبعين خريفا حتى باريء القلم ولائق الدواة". "طب عن ابن عباس".
14957 قیامت کے روز صاحب قلم (منشی) کو آگ کے تابوت میں آگ کے تالوں کے ساتھ مقفل کرکے لایا جائے گا پھر دیکھا جائے گا کہ اس کے قلم سے کیا کیا چیزیں نکلی ہیں۔ اگر اس کا قلم اللہ کی اطاعت میں چلا ہے اور اس کی رضاء مندی میں چلا ہے تو اس کا تابوت کھل جائے گا ۔ اور اگر وہ اللہ کی نافرمانی میں چلا ہے تو وہ تابوت ستر سال کی گہرائی میں جاگرے گا حتیٰ کہ قلم تراشنے والا اور دوات بنانے والا (بھی) اس سلوک سے گزرے گا اگر اس نے عمداً ظلم لکھنے کے لیے قلم ودوات بنائے ہوں گے۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے مختصر المقاصد : 220 ۔