15051- "إن الله قد جعل لكل ذي حق حقه ألا لا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر ألا لا يتولين رجل غير مواليه، ولا يدعى إلى غير أبيه، فمن فعل ذلك فعليه لعنة الله متتابعة إلى يوم القيامة ألا لا تنفق امرأة من بيت زوجها إلا بإذن زوجها ألا إن العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضى والزعيم غارم". "الحسن بن سفيان ق وابن عساكر عن الحسن وروى هـ بعضه".
15051 اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کے لیے اس کا حق رکھا ہے خبردار ! وارث (شرعی) کے لیے وصیت نہیں اولاد بستر والے (شوہر یا باندی کے مالک) کی ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے خبردار ! کوئی غلام آدمی اپنے آقاؤں کے سوا کسی اور کو اپنا والی نہ بنائے (جس نے وراثت وغیرہ اصل والیوں کے بجائے اوروں کو منتقل کی ہو) اور کوئی شخص اپنی والدیت غیر والد کے کہیں اور منسوب نہ کرے جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ خبردار ! کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے بغیر اجازت کے شوہر کا کوئی مال خرچ نہ کرے۔ خبردار ! عاریت (مانگے کی چیز) واپس کرنا ضروری ہے۔ منجہ (دودھ کے لیے دیا ہوا جانور یا پھل کے لیے دیا ہوا درخت وغیرہ) واپس کرنا ضروری ہے۔ قرض کی ادائیگی ضروری ہے اور ضمانت اٹھانے والا چٹی برداشت کرنے والا ہے (نقصان کی صورت میں)
الحسن بن سفیان، السنن للبیہقی ، ابن عساکر عن الحسن وروی ابن ماجہ بعضہ