hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 15122

.

كنز العمال

15122
Kanz al-Ummal
15122- "لما خلق الله آدم مسح ظهره فسقط من ظهره كل نسمة هو خالقها إلى يوم القيامة، ثم جعل بين عيني كل إنسان منهم وبيصا من نور، ثم عرضهم على آدم فقال: أي رب من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذريتك فرأى رجلا منهم أعجبه نور ما بين عينيه فقال: أي رب من هذا؟ قال: هذا رجل من ذريتك في آخر الأمم يقال له داود فقال: أي رب كم عمره قال: ستون سنة قال: فزده من عمري أربعين سنة قال: إذن يكتب ويختم ولا يبدل، فلما انقضى عمر آدم جاءه ملك الموت قال: أو لم يبق من عمري أربعون سنة؟ قال: أو لم تعطها ابنك داود، فجحد فجحدت ذريته، ونسي آدم فنسيت ذريته، وخطيء آدم فخطئت ذريته". "ت ك عن أبي هريرة"
15122 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا جس سے ان کی پشت سے ہر جان باہر نکل آئی جس کو قیامت تک پیدا ہونا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی پیشانی پر نور کی چمک پیدا فرمائی۔ پھر اللہ پاک نے ان کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا، حضرت آدمی (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : یہ تیری اولاد ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان کے درمیان ایک دوسروں کی نسبت زیادہ حمکدار پیشانی والا شخص دیکھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! یہ کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : آخری امتوں میں آپ کی اولاد میں سے ایک نبی ہے جس کا نام داؤد ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے پروردگار ! اس کی کتنی عمر ہے ؟ ارشاد فرمایا : ساٹھ سال عرض کیا : اس کو میری عمر میں چالیس سال زیادہ کردے۔ پروردگار نے ارشاد فرمایا : تب اس بات کو لکھ لیا جائے اس پر مہر لگا دی جائے اور اس میں کوئی تغیر وتبدل نہ کیا جائے۔ چنانچہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر پوری ہوئی ان کے پاس موت کا فرشتہ آیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : کیا میری عمر میں ابھی چالیس سال باقی نہیں ہیں ؟ فرشتہ نے عرض کیا : کیا آپ نے وہ سال اپنے بیٹے داؤد کو نہیں دے دیئے تھے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کردیا۔ اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی مکر جاتی ہے آدم (علیہ السلام) بھول گئے اور ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے آدم (علیہ السلام) سے خطاء سرزد ہوگئی اسی وجہ سے ان کی اولاد سے بھی خطاء ہوتی رہتی ہے۔ الترمذی، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)