15129- "خلق الله آدم على صورته وطوله ستون ذراعا، ثم قال: اذهب فسلم على أولئك النفر، وهم نفر من الملائكة جلوس، فاستمع ما يجيبونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك قال: فذهب فقال: السلام عليكم فقالوا: السلام عليك ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فكل من يدخل الجنة على صورة آدم وطوله ستون ذراعا فلم يزل الخلق ينقص بعد حتى الآن". "حم ق عن أبي هريرة".
15129 اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ (گز) رکھا۔ پھر فرمایا : جا اس جماعت کو سلام کر، وہ ملائکہ کی ایک جماعت تھی جو بیٹھی ہوئی تھی۔ اور جو وہ جواب دیں اس کو سن وہ تیرا اور تیری اولاد کا تحیہ ہے (ملاقات کے وقت کے کلمات) ۔ چنانچہ آدم (علیہ السلام) گئے اور ان کو السلام علیکم کہا۔ انھوں نے بھی جواب میں السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہا۔
اس طرح انھوں نے و رحمۃ اللہ کا اضافہ کردیا۔ پس ہر شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ آدم (علیہ السلام) کی صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا (اس وجہ سے کہ آدم (علیہ السلام) کا قد ساٹھ ہاتھ تھا) لیکن مخلوق تب سے مسلسل اب تک گھٹاؤ کا شکار ہے۔ مسند احمد، البخاری، مسلم عن ابن ہریرہ (رض)