hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1528

.

كنز العمال

1528
Kanz al-Ummal
1528 - (من مراسيل الشعبي) عن الشعبي قال: "انطلق العباس مع النبي صلى الله عليه وسلم إلى الأنصار فقال تكلموا ولا تطيلوا الخطبة إن عليكم عيونا وإني أخشى عليكم كفار قريش فتكلم رجل منهم يكنى أبا أمامة وكان خطيبهم يومئذ وهو أسعد بن زرارة فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لأصحابك وما الثواب على ذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أسألكم لربي أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا ولنفسي أن تؤمنوا بي وتمنعوني مما تمنعون منه أنفسكم وأسألكم لأصحابي المواساة في ذات أيديكم قالوا فما لنا إذا فعلنا ذلك، قال: لكم على الله الجنة". (ش كر) .
١٥٢٨۔۔ از مراسیل شعبی، شعبی سے مروی ہے کہ حضرت عباس حضور کے ہمراہ انصار کے پاس گئے، اور انصار سے فرمایا بات شروع کرو لیکن بات کا زیادہ طول مت دو ۔ جاسوسوں کی آنکھیں تمہاری نگرانی کررہی ہیں۔ اور مجھے تم پر کفار قریش کا بھی خطرہ ہے توحاضرین مجلس میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابوامامہ تھی اور وہ ان دنوں میں انصار کے خطیب سمجھے جاتے تھے اور ان کا نام اسعد بن زرارہ تھا وہ بات کرنا شروع ہوئے اور آپ سے عرض کیا یارسول اللہ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کیجئے۔ اور اپنی ذات کے لیے سوال کیجئے اور اپنے اصحاب کے لیے بھی سوال کیجئے اور ساتھ میں یہ بھی فرما دیجئے کہ ہم کوا سپرکیاثواب حاصل ہوگا۔ آپ نے فرمایا میں تم سے اپنے رب کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنی ذات کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں سے میری حفاظت کرو جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اور میں اپنے اصحاب کے لیے تم سے سوال کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ تم غم خواری کا معاملہ کرو۔ انصار نے عرض کیا اگر ہم ایساکریں گے تو ہمارے لیے کیا ثواب ہے۔ فرمایا تمہارے لیے اللہ کے ذمہ جنت واجب ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ، ابن عساکر۔