1534 - عن عقبة بن عمرو الأنصاري قال: "وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أصل العقبة الأضحى ونحن سبعون رجلا إني من أصغرهم فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أوجزوا في الخطبة فإني أخاف عليكم كفار قريش قلنا يا رسول الله سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لأصحابك وأخبرنا ما الثواب على الله عز وجل وعليك فقال: أسألكم لربي أن تؤمنوا به ولا تشركوا به شيئا وأسألكم أن تطيعوني أهدكم سبيل الرشاد وأسألكم لي ولأصحابي أن تواسونا في ذات أيديكم وأن تمنعونا مما منعتم منه أنفسكم فإذا فعلتم ذلك فلكم على الله الجنة وعلي فمددنا أيدينا فبايعناه". (ش كر) .
١٥٣٤۔۔ عقبہ بن عمروالانصاری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ نے عقبہ کی کھوہ میں یون اضحی کو عہد و پیمان لیاہم ستراشخاص تھے میں ان میں سب سے کم سن تھا تو رسول اللہ نے ہمارے پاس تشریف لاکر فرمایا مختصر بات کرو، کیونکہ مجھے تم پر کفار قریش کا خطرہ ہے۔
ہم نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کیجئے اپنی ذات کے لیے سوال کیجئے اور اپنے اصحاب کے لیے بھی سوال کرلیجئے اور یہ بھی بتا دیجئے کہ ہمارے لیے اللہ پر اور آپ پر کیا اجر ہوگا ؟ فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس پر ایمان لاؤ اس کیس اتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تم سے سوال کرتا ہوں کہ میری اطاعت فرمان برداری کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤ ں گا، اور میں اپنے اور اپنے اصحاب کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ہم سے غم خواری کا سلوک کرو، اور جن خطرات سے اپنی حفاظت کرتے ہو اور ان سے ہماری بھی حفاظت کرو، جب تم یہ کرلو گے تو تمہارے اللہ اور میرے ذمہ جنت کا وعدہ ہے۔ انصار فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور آپ سے بیعت ہوگئے۔ ابن ابی شیبہ، ابن عساکر۔