1559 - عن جعفر بن محمد عن أبيه قال "قيل لعلي بن أبي طالب إن ههنا رجلا يتكلم في المشيئة فقال: يا عبد الله خلقك الله لما شاء أو لما شئت قال لما شاء قال فيمرضك إذا شاء أو إذا شئت قال بل إذا شاء قال فيميتك إذا شاء أو إذا شئت قال إذا شاء قال فيدخلك حيث شاء أو حيث شئت قال والله لو قلت غير هذا لضربت الذي فيه عيناك بالسيف ثم تلا علي: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} ". (ابن أبي حاتم والأصبهاني واللالكائي والخلعي في الخلعيات) .
١٥٥٩۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد محمد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب سے کہا گیا کہ یہاں ایک ایساشخص ہے جو مشیت الٰہی یعنی قدرت میں کلام کرتا ہے آپ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے مخاطب فرمایا، اے اللہ کے بندے بتا کہ اللہ نے جب چاہا تجھے پیدا کیا تو نے جب چاہا تجھے پیدا کیا ؟ عرضک یا جب اللہ نے چاہاپیدا کیا، دریافت فرمایا جب وہ چاہتا ہے تب تجھے بیمار کرتا ہے یا جب تو چاہتا ہے تب تجھے بیمار کرتا ہے عرض کیا جب وہ چاہتا ہے تب بیمار کرتا ہے فرمایا جب وہ چاہے گا تجھے موت دے گا یا جب توچا ہے گا تو وہ موت دے گا، عرض کیا جب وہ چاہے گا موت دے فرمایا پھر جہاں وہ چاہے گا تجھے داخل کرے گایاجہاں توچا ہے گا وہ داخل کرے گا، پھر حضرت علی نے فرمایا اگر تم اس کے سوا کوئی اور جواب دیتے تو میں تمہارا یہ سر قلم کردیتا جس میں یہ دوآنکھیں ہیں۔ پھر حضرت علی نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ وماتشاو ون الاان یشاء اللہ۔ ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ) ۔ تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو، وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے۔ ابن ابی حاتم ، اللالکانی، الخلعی، فی الخلعیات۔