1563 - عن أبي نصير قال "كنا جلوسا حول الأشعث بن قيس إذ جاء رجل بيده عنزة فلم نعرفه وعرفه فقال يا أمير المؤمنين قال نعم قال تخرج هذه الساعة وأنت رجل محارب قال إن علي من الله جنة حصينة فإذا جاء القدر لم يغن شيئا إنه ليس من الناس أحد إلا وقد وكل به ملك فلا تريده دابة ولا شيء إلا قال اتقه اتقه فإذا جاء القدر خلى عنه". (د في القدر كر) .
١٥٦٣۔۔ ابونصیر سے مروی ہے کہ ہم اشعث بن قیس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ہاتھ میں نیزہ تھامے آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم تو اس کو نہ پہچان سکے مگر آپ پہچان گئے اس نے کہا، امیرالمومنین فرمایا جی عرض کیا، آپ اس وقت میں بےدھڑک نکلتے ہیں جبکہ آپ سے جنگ چھڑی ہوئی ہے ، فرمایا اللہ کی طرف سے ایک ڈھال میری حفاظت پر مامور ہے جو میرے لیے قلعہ گاہ بھی ہے پس جب نوشتہ تقدیر آجائے گا تو کوئی چیز مفید نہ رہے گی۔ بیشک کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگہبان فرشتہ مقرر نہ ہو۔ کوئی بھی جانور یا کوئی اور شے اسے گزند پہنچانے کا ارادہ کرتی ہے تو وہ فرشتہ اسے کہتا ہے کہ ہٹو، ہٹو ! پس جب قدرت کا فیصلہ آجاتا ہے تو وہ فرشتہ اس کی راہ چھوڑ دیتا ہے۔ ابوداؤد، فی القدر ابن عساکر۔