1565 - عن قتادة قال: "إن آخر ليله أتت على علي جعل لا يستقر فارتاب به أهله فجعل يدس بعضهم إلى بعض حتى أجمعوا فناشدوه قال إنه ليس من عبد إلا ومعه ملكان يدفعان عنه ما لم يقدر أو قال ما لم يأت القدر فإذا أتى القدر خليا بينه وبين القدر ثم خرج إلى المسجد فقتل" (د في القدر كر) .
١٥٦٥۔۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی کی زندگی کی آخری رات آئی تو آپ اپنی جگہ ٹھہرتے نہ تھے اہل خانہ کو تشویش ہوئی اور وہ آپس میں آپ کو روکنے کے لیے حیلہ سازی کرنے لگے، پھر جمع ہو کر آپ کو رک جانے کے لیے واسطے دیے۔ آپ نے فرمایا بیشک کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر دونگہبان فرشتے مقرر نہ ہوں، جو اس سے ہر غیر مقدر مصیبت کو دفع کرتے رہتے ہیں یا فرمایا جب تک تقدیر نہیں آجاتی۔ پس جب تقدیر آجاتی ہے تو وہ فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں یہ فرما کر آپ مسجد کی طرف گئے اور شہید کردیے گئے ۔ ابوداؤد، فی القدر، ابن عساکر۔