1578 - عن ابن الديلمي قال قلت: لعبد الله بن عمرو بلغنى أنك تقول: "إن القلم قد جف فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الله خلق الناس في ظلمة ثم أخذ نورا من نوره فألقاه عليهم فأصاب من شاء وأخطأ من شاء وقد علم من يخطئه ممن يصيبه فمن أصابه من نوره شيء اهتدى ومن أخطأه ضل" فعند ذلك أقول إن القلم قد جف". (ابن جرير) .
١٥٧٨۔۔ ابن الدیلمی سے مروی ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے عرض کیا کہ مجھے آپ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ قلم خشک ہوچکا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو تاریکی میں پیدا کیا پھر اپنے نور میں سے ان پرنور ڈالا، سو جس کو چاہا اس کو وہ نور پہنچا اور جس کو چاہا نہیں پہنچا، اور پہنچنے والوں میں سے نہ پہنچنے والوں کو اللہ نے اچھی طرح جان لیا ہے سو جس کو نور پہنچا وہ ہدایت یاب ہوا۔ اور جس کو خطا کرگیا وہ گمراہ ہوا تو اس موقعہ پر میں کہتاہوں کہ قلم خشک ہوچکا ہے۔ رواہ ابن جریر۔