1586 - (ومن مسند أبي هريرة) عن أبي هريرة أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول "تحاج آدم وموسى فقال آدم لموسى أنت موسى الذي اصطفاك الله على خلقه وبعثك برسالاته ثم صنعت الذي صنعت يعني النفس الذي قتل فقال موسى لآدم وأنت الذي خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته وأسكنك جنته ثم فعلت الذي فعلت فلولا ما فعلت لدخلت ذريتك الجنة فقال آدم: لموسى أتلومني في أمر قد قدر علي قبل أن أخلق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فحج آدم موسى ثلاثا".
(ابن شاهين في الأفراد) وقال لا يعرف هذا الكلام إلا في هذه الرواية فيما ألزم آدم موسى قبل أن يلزم موسى آدم في القتل (كر) .
١٥٨٦۔۔ ازمسند ابوہریرہ ۔ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ آدم وموسی (علیہما السلام) کا مناظرہ ہوا آدم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا آپ موسیٰ ہیں جن کو اللہ نے کسی وقت میں تمام مخلوق میں سے منتخب کیا ؟ اور اپنے پیغامات کے ساتھ تمہیں مبعوث کیا ؟ پھر تم نے کیا جو کیا یعنی ایک جان کو قتل کرڈالا پھر موسی نے آدم (علیہ السلام) سے کہا آپ وہی ہیں ناں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ؟ اور پھر آپ کو مسجود ملائکہ بنایا پھر اپنی جنت میں آپ کو سکونت بخشی ؟ پھر آپ نے کیا جو کیا ؟ اگر آپ وہ نہ کرتے تو آپ کی ذریت بھی جنت میں داخل ہوجاتی ؟ آدم نے موسیٰ کو فرمایا کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جس کا وقع میری تخلیق ہی سے قبل مقدر میں ہوچکا تھا ؟ آپ نے تین بار فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ ابن شاھین۔ فی الافراد۔
مولف (رح) فرماتے ہیں کہ یہ واحد روایت ایسی ہے جس میں حضرت آدم اولاحضرت موسیٰ پر قتل کا الزام وارد کرتے ہیں۔ ابن عساکر۔