1627 - عن عمر قال: "اتهموا الرأي على الدين فلقد رأيتني أراه على أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما آلو عن الحق وذاك يوم أبي جندل والكتاب بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأهل مكة. فقال: أكتب بسم الله الرحمن الرحيم ترانا إذا صدقناك بما تقول ولكن اكتب بما كنت تكتب باسمك اللهم، فرضي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبيت عليهم حتى قال: يا عمر إني قد رضيت وتأبى أنت". (البزار (2) وابن جرير في الأفراد وأبو نعيم في المعرفة واللالكائي في السنة والديلمي) .
١٦٢٧۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ دین میں اپنی رائے کو پیچ سمجھو، کیونکہ میں نے اپنے آپ کو بھی دیکھا کہ رسول اللہ کے امر میں ہیچ رائے ہوں۔ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام حق سے سراموانحراف کرنے والے نہ تھے اور یہ ابی جندل کے واقعہ والادن ہے کہ مصالحت نامہ آپ اور اہل مکہ کے سامنے رکھا ہوا ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم، اہل مکہ کہنے لگے آپ ہمیں کیا خیال کرتے ہیں کہ اگر یہ لکھا گیا تب تو ہم نے آپ کی بات کی تصدیق کرلی لہٰذا وہی لکھئے جو پہلے سے لکھتے آرہے ہیں، یعنی باسمک اللھم، آپ اس پر راضی ہوگئے لیکن میں ان کو انکار کردیا، حضور نے فرمایا جب میں راضی ہوگیاہوں تو بھی تم انکار کرتے ہو ؟ البزار ، ابن جریر فی الافراد ، ابونعیم فی المعرفہ، الالکائی ، فی السنہ، الدیلمی۔