hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1688

.

كنز العمال

1688
Kanz al-Ummal
1688 - من مسند عمر رضي الله عنه عن رجل قال: "كنت في المدينة في مجلس فيه عمر بن الخطاب، فقال لبعض جلسائه: كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصف الإسلام؟ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الإسلام بدأ جذعا ثم ثنيا ثم رباعيا ثم سديسا ثم بازلا"، فقال عمر: ما بعد البزول إلا النقصان". (حم ع) .
١٦٨٨۔۔ از مسند عمر (رض) ، ایک شخص سے مروی ہے کہ میں مدینہ میں حضرت عمر بن خطاب کی مجلس میں موجود تھا کہ آپ (رض) نے اپنے کسی ہم نشین سے فرمایا تم نے حضور کو اسلام کی صفت کس طرح بیان کرتے ہوئے سنا ؟ اس نے کہا میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام اونٹ کے بچہ کی مانند نوخیزی وکسمپرسی کے عالم میں اٹھا، پھر اس کے سامنے کے ثنائی دانت نکلے ۔ پھر برابر کے رباعی دانت نکلے پھر رباعی کے بعد والے دانت نکلے۔ پھر اسلام اپنے عنفوان شباب کے آخری مرحلہ بزول پر آیا اور اس کے کچیلی والے دانت بھی نکل آئے اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا کہ بزول کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی بروایت رجل ۔
اس روایت میں مجہول روای غالبا حضرت العلاء بن الحضرمی (رض) ہیں۔ اور روایت میں اسلام کو ایک اونٹ کے بچے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اس کی ارتقائی منازل کو بیان کیا گیا ہے آخری مرحلہ بزول کا فرمایا حالت بزول میں اونٹ آٹھویں سال میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی قوت کا انتہائی اور بڑھاپے کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اسی وجہ سے روایت کے آخر میں حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ بزول کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا، یعنی عنقریب اسلام اس حالت میں پہنچ کر حاملین اسلام کی زبوں حالی کی وجہ سے اپنا عروج واقبال کھوبیٹھے گا۔