1719 - من مسند عمر عن رجل من بني سليم يقال له قبيصة، قال: "كنا مع عتبة بن غزوان بالخريبة ، فإذا هو ينادي بأصحاب سورة البقرة، وإذا برجل ينادي يا آل شيبان فحملت عليه فثنى لي الرمح وقال: إليك عني فوضعت قوسي في رمحه، وأخذت بلحيته فجئت به إلى عتبة فحبسه، وكتب فيه إلى عمر فكتب إليه عمر، لو كنت ذا أسير ودعا بدعوى الجاهلية قدمته فضربت عنقه كان أهل ذاك فأما إذا حبسته فادعه فأحدث له بيعة وخل سبيله". (محمد بن شيبان القزاز في حزبه – (2)) .
١٧١٩۔۔ از مسند عمر (رض)۔ قبیلہ بنی سلیم کے ایک شخص جس کو قبیصہ کہا جاتا تھا، سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم بصرہ کے ایک مقام الخزیبیہ میں عتبہ بن غزوان کے ہمراہ تھے انھوں نے سورة البقرہ کے اصحاب کے حوالہ سے لوگوں کو پکارناشروع کیا، ادھردوسرا آدمی بھی آل شیبان کے حوالہ سے لوگوں کو پکارنے لگا اور یہ جاہلیت کا تفاخر و غرور تھا تو میں اس پر حملہ آور ہوا، اس نے بھی مجھ پر نیزہ تان لیا اور کہنے لگا مجھ سے دور رہو، میں نے اس کے نیزے کو اپنی کمان پر لیا، اور اس کی ڈاڑھی اپنی مٹھی میں تھام لی اور اسے پکڑ کر حضرت عتبہ کے پاس لے آیاعتبہ نے ان کو محبوب کرلیا، اور اس کی رواداد حضرت عمر کی بارگاہ خلافت میں لکھ بھیجی۔ حضرت عمر نے جواب ارسال فرمایا، کہ اگر وہ تمہارا قیدی ہے اور جاہلیت کے دعوی پر مصر ہے توا سکی گردن اڑا دیتے لیکن اگر وہ محض نظربند ہے تو اس کو دعوت دو ۔ اور اس سے بیعت لو اور اس کی راہ چھوڑ دو ۔ محمد بن شیبان القزار فی حذبہ۔