1728 - من مسند عمر رضي الله عنه عن سعيد بن يسار قال: "لما بلغ عمر بن الخطاب أن رجلا بالشام يزعم أنه مؤمن فكتب إلى أميره أن ابعثه إلي، فلما قدم قال: أنت الذي تزعم أنك مؤمن؟ قال: نعم يا أمير المؤمنين، قال: ويحك ومما ذاك؟ قال: أو لم تكونوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أصنافا مشرك ومنافق ومؤمن؟ فمن أيهم كنت؟ فمد عمر إليه معرفة لما قال حتى أخذ بيده". (هب) .
١٧٢٨۔۔ از مسند عمر (رض)۔ سعید بن یسار سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر کو یہ خبرموصول ہوئی کہ ملک شام میں ایک شخص نے اپنے مومن ہونے کا دعوی کیا ہے حضرت عمر نے وہاں کے امیر کو پیغام بھیجا کہ اس کو میرے پاس بھیج دو ، جب وہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تو اپنے مومن ہونے کا مدعی ہے ؟ عرض کی جی ہاں۔ فرمایا تفوہ ! وہ کیسے ؟ عرض کیا کیا آپ لوگ رسول اللہ کے ساتھ تین اصناف کے لوگ نہ تھے ؟ مشرک، منافق، مومن، تو آپ کن میں سے تھے ؟ حضرت عمر اس کی بات کو سمجھ گئے اور ازراہ خوشی اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ شعب الایمان۔