hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1736

.

كنز العمال

1736
Kanz al-Ummal
1736 - عن الأصبغ بن نباتة قال: كنا جلوسا عند علي بن أبي طالب فأتاه يهودي فقال: يا أمير المؤمنين متى كان الله؟ فقمنا إليه فلهزناه حتى كدنا نأتي على نفسه، فقال علي: خلوا عنه، ثم قال اسمع يا أخا اليهود ما أقول لك بأذنك واحفظه بقلبك، فإنما أحدثك عن كتابك الذي جاء به موسى بن عمران، فإن كنت قد قرأت كتابك وحفظته فإنك ستجده كما أقول، إنما يقال متى كان لمن لم يكن ثم كان، فأما من يزل بلا كيف يكون كان بلا كينونة، كائن لم يزل قبل القبل وبعد البعد لا يزال بلا كيف ولا غاية ولا منتهى، إليه انقطعت دونه الغايات فهو غاية كل غاية. فبكى اليهودي وقال: والله يا أمير المؤمنين إنها لفي التوراة هكذا حرفا حرفا، وإني أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله". (الأصبهاني في الحجة) .
١٧٣٦۔۔ الاصبغ بن نبلہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس ایک یہودی حاضر ہوا اور کہنے لگایا امیرالمومنین اللہ کب سے موجود ہوا ؟ ہم اس کی طرف لپکے اور اس قدر اس کو زودوکوب کیا کہ قریب تھا کہ اس کی جان لے بیٹھتے ۔ حضرت علی نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ۔ پھر خود اس سے مخاطب ہوئے کہ اے یہود کے بھائی جو میں تجھے کہوں اس کو اپنے کانوں سے سن لو، اور دل میں اس کو محفوظ رکھ میں تجھے تیری کتاب ہی سے جو موسیٰ بن عمران لے کر آئے ہیں جواب دوں گا اگر تو نے اپنی کتاب پڑھ کر یاد کررکھی ہوگی تو میری بات کو اس کی مانند پائے گا۔
سن، ، وہ کب وجود میں آیا، یہ اس ذات کے متعلق پوچھا جاسکتا ہے جو پہلے موجود نہ ہو، پھروجود میں آئی ہو، بہرحال جو ہستی لازوال ہو، وہ بغیر کسی کیفیت کے ہوتی ہے اور بغیر حدوث وجود میں آئے موجود ہوتی ہے وہ ہمیشہ سے لازوال ہے وہ ابتدا سے بھی پہلے سے ہے اور انتہاء سے بھی آخر میں ہے وہ بغیر کسی کیفیت وغایت انتہاء کے لازوال ہے اس پر تمام غایات منقطع ہوجاتی ہیں وہ ہر غایت کی غایت ہے۔ اس بات کو سن کر یہودی روپڑا اور اعرض کیا یا امیرالمومنین اللہ کی قسم ! یہ بات حرفا توراۃ میں موجود ہے سوا اب شہادت دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ الاصبہانی فی الحجہ۔