17452- عن علي قال: "كانت هاجر لسارة فأعطت هاجر إبراهيم فاستبق إسماعيل وإسحاق فسبقه إسماعيل فجلس في حجر إبراهيم، قالت سارة: والله لأغيرن منها ثلاثة أشراف فخشى إبراهيم أن تجدعها أو تخرم أذنيها فقال لها: هل لك أن تفعلي شيئا وتبرئي من يمينك؟ شقي أذنيها وتخفضيها فكان أول الخفاض هذا". "هب".
17452 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) حضرت سارہ کی باندی تھیں۔ پھر حضرت سارہ نے وہ اپنے شوہر ابراہیم (علیہ السلام) کو دیدی۔ پھر اسماعیل۔ ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہونے میں سبقت لے گئے۔ اور اسحاق (علیہ السلام) بعد میں سارہ (علیہ السلام) کے بطن سے تولد ہوئے۔ جب اسماعیل اسراہیم (علیہ السلام) کی گود میں بیٹھے تو سارہ (علیہ السلام) (کو غیرت آئی اور انھوں نے) کہا : اللہ کی قسم ! میں اس کے تین عمدہ اعضاء کو بگاڑ دوں گی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈر ہوا کہ کہیں وہ ان کو نکٹانہ کردے یا کانوں میں سوراخ نہ کردے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ (علیہ السلام) کو فرمایا : تم ایسا کچھ کرو کہ قسم سے بری ہوجاؤ اور (زیادہ تکلیف نہ دو وہ یوں کہ تم) ان کے کان چھیددو اور اس کا ختنہ کردو۔ تب پہلی مرتبہ ختنہ اس عورت کا ہوا تھا۔ شعب الایمان للبیہقی