17599- عن مكحول "أن رجلا أتى عمر بن الخطاب وقد ابيض نصف رأسه ونصف لحيته فقال له عمر: ما بالك، فقال: مررت بمقبرة بني فلان ليلا فإذا رجل يطلب رجلا بسوط من نار كلما لحقه ضربه فاشتعل ما بين فرقه وقدمه نارا فلما دنى الرجل قال: يا عبد الله أغثني، فقال الطالب: يا عبد الله لا تغثه فبئس عبد الله هو، فقال عمر: فلذلك كره لكم نبيكم صلى الله عليه وسلم أن يسافر أحدكم وحده". "هشام بن عمار في مبعث النبي صلى الله عليه وسلم".
17599 مکحول (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، جس کا آدھا سر اور آدھی داڑھی سفید ہوچکی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تیرا کیا حال ہے ؟ آدمی بولا : میں بنی فلاں کے مقبرے کے پاس سے رات کے وقت گزرا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی آگ کا کوڑا لیے دوسرے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ وہ جب بھی اس کو پالیتا تو کوڑا مارتا ہے، جس کے اثر سے اس کے سر سے پاؤں تک آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آدمی جب میرے قریب ہوا تو بولا : یا عبداللہ اغثنی اے اللہ کے بندے میری مدد کر۔ پکڑے نے والے نے کہا : اے اللہ کے بندے ! اس کی مدد نہ کر۔ یہ بہت برا بندہ ہے اللہ کا۔ حضرت عمر (رض) نے اس آدمی کو فرمایا : اسی وجہ سے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناپسند کیا ہے کہ کوئی آدمی تنہا سفر کرے۔ ہشام بن عمار فی مبعث النبی ﷺ