17638- عن أنس قال: "جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني أريد سفرا وقد كتبت وصيتي فإلى أي الثلاثة تأمرني أن أدفع إلى أبي أو ابني أو أخي فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما استخلف العبد في أهله من خليفة إذا هو شد عليه ثياب سفره خيرا من أربع ركعات يضعهن في بيته يقرأ في كل واحدة منهن بفاتحة الكتاب و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ثم يقول: اللهم إني أتقرب بهن إليك فاجعلهن خليفتي في أهلي ومالي فهن خليفته في أهله وماله وداره ودور حول داره حتى يرجع إلى أهله". "الديلمي".
17638 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں سفر پر جانا چاہتا ہوں (رح) اور میں نے اپنی وصیت لکھ لی ہے، اب میں وہ وصیت کس کے حوالے کروں اپنے والد کے، اپنے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بندہ سفر کا ارادہ کرکے کپڑے باند لیتا ہے تو اپنے گھر والوں کے پاس اس سے بہتر کوئی خلیفہ نہیں چھوڑ کرجاتا کہ اپنے گھر میں چار رکعات پڑھے اور ہر رکعت میں سو رہ فاتح کے بعد قل ھواللہ احد پڑھے پھر یہ دعا کرے :
اللھم انی اتقرب بھن الیک فاجعلھن خلیفتی فی اھلی ومالی
اے اللہ ! میں ان رکعات کے ساتھ تیرا قرب حاصل کرتا ہوں۔ پس ان کو میرے اہل اور میرے مال میں میرا خلیفہ بنا۔
پس یہ رکعات اس کیلئے اس کے اہل، مال، گھر اور آس پاس کے گھروں میں خلیفہ بنادیتا ہے جب تک کہ وہ واپس آئے۔ الدیلمی