17642- عن حفص بن عبد الله بن أنس قال: "كنا نسافر مع أنس إلى مكة فكان إذا زالت الشمس وهو في منزل لم يركب حتى يصلي الظهر فإذا راح فحضرت العصر فإن سار من منزل قبل أن تزول الشمس فحضرت الصلاة قلنا: الصلاة، فيقول: سيروا حتى إذا كان بين الصلاتين جمع بين الظهر والعصر، ثم قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وصل ضحوته بروحته صنع هكذا". "ش".
17642 حفص بن عبداللہ بن انس سے مروی ہے کہ ہم حضرت انس (رض) کے ساتھ مکہ کے سفر پر تھے جب سورج کا زوال ہوتا اور آپ کسی مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوتے تو وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک کہ ظہر کی نماز نہ پڑھ لیتے۔ پھر جب کوچ کرتے اور عصر کا وقت ہوجاتا تو اگر زوال شمس سے قبل چل رہے ہوتے پھر نماز کا وقت ہوجاتا تو ہم کہتے الصلاۃ ! آپ (رض) فرماتے : چلتے رہو حتیٰ کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہوجاتا تو دونوں نمازوں کو جمع کرکے پڑھ لیتے۔ پھر فرماتے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ جب آپ چاشت کے وقت سے چلتے رہتے اور دن ڈھل جاتا تو ایسا کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ