17651- " يا عائشة أشعرت أن الله قد أفتاني فيما استفتيته فيه؟ جاءني رجلان فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي أو الذي عند رجلي للذي عند رأسي ما وجع الرجل؟ قال: مطبوب، قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم، قال: في أي شيء، قال: في مشط ومشاطة وجف طلعة ذكر، قال: فأين هو؟ قال: في بئر أروان، قالت: فأتاها رسول الله صلى الله عليه وسلم في ناس من أصحابه، ثم جاء فقال: يا عائشة والله لكأن ماءها نقاعة الحناء ولكأن نخلها رؤوس الشياطين". "حم ق ن عن عائشة"
17651 اے عائشہ ! کیا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی ؟ (ہاں) میرے پاس دو فرشتے آئے تھے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ سر والے نے پاؤں والے کو یا پاؤں والے نے سر والے کو کہا : اس آدمی کو کیا تکلیف ہے ؟ دوسرے نے کہا : اس پر جادو ہوگیا ہے۔ پوچھا : کس نے جادو کیا ہے ؟ بولا لبید بن الاصعم نے۔ پوچھا : کس چیز میں ؟ بولا : کنگھی میں، بالوں میں اور کھجور کے گابھے کے گچھے میں۔ پوچھا : یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ بولا بئراروان میں (یعنی اروان کے کنویں میں) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ کو لے کر اس کنویں کے پاس گئے۔ پھر واپس آئے تو فرمایا : اے عائشہ ! اللہ کی قسم ! اس کنویں کا پانی مہندی کے دھو ون جیسا تھا اور اس (کے آس پاس) کی کھجوریں گویا شیطانوں کے سر تھے۔ مسند احمد ، البخاری ، مسلم، النسائی، عن عائشۃ (رض)