17672- "إذا قضى الله تعالى الأمر في السماء ضربت الملائكة بأجنحتها خضعانا لقوله كأنه سلسلة على صفوان، فإذا فزع عن قلوبهم قالوا: ماذا قال ربكم؟ قالوا: للذي قال: الحق وهو العلي الكبير فيسمعها مسترقوا السمع ومسترقوا السمع هكذا واحد فوق آخر فربما لم أدرك الشهاب المستمع قبل أن يرمي بها إلى صاحبه فيحرقه وربما لم يدركه حتى يرمي بها إلى الذي يليه إلى الذي هو أسفل منه حتى يلقوها إلى الأرض فتلقى على فم الساحر فيكذب معها مائة كذبة فيصدق، فيقولون: ألم يخبرنا يوم كذا وكذا يكون كذا وكذا فوجدناه حقا للكلمة التي سمعت من السماء". "خ ت عن أبي هريرة"
17672 جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ کردیتا ہے تو ملائکہ پروردگار کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے پر مارتے ہیں گویا پتھر پر زنجیریں پڑ رہی ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ زائل ہوجاتی ہے تو پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ تو وہ کہتے ہیں : حق فرمایا : اور وہ عالی ذات بڑائی والی ہے۔ پس چوری چھپے سننے والے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ کر اس بات کو سنتے ہیں۔ بعض اوقات شہاب (ٹوٹنے والے تارا) چور کو اس سے پہلے آلیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو بات بتائے اور اس کو جلا ڈالتا ہے۔ اور بعض اوقات شہاب اس کو نہیں پاسکتا اور وہ (شیطان جن) اپنے سے نیچے والے کو بات بتا دیتا ہے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو حتیٰ کہ وہ زمین تک پہنچا دیتے ہیں۔ پھر وہ بات جادو گر کے منہ پر ڈال دی جاتی ہے۔ وہ اس کے ساتھ جھوٹ ملا کر بولتا ہے اور لوگ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں : کیا اس نے ہم کو فلاں فلاں دن یہ یہ بات نہیں بتائی جو ہم نے حق سچ دیکھی۔ اس بات کے متعلق کہتے ہیں جو آسمان سے سنی گئی تھی۔
البخاری، الترمذی عن ابوہریرہ (رض) ، البخاری 152/6 ۔