17674- "فإنها لا يرمي بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك وتعالى إذا قضى أمرا سبح حملة العرش ثم سبح أهل السماء الذين يلونهم حتى يبلغ التسبيح أهل هذه السماء الدنيا، ثم قال الذين يلون حملة العرش لحملة العرش: ماذا قال ربكم؟ فيخبرونهم ماذا قال، فيستخبر بعض أهل السموات بعضا حتى يبلغ الخبر أهل هذه السماء الدنيا فتخطف الجن السمع فيقذفونه إلى أوليائهم ويرمون به فما جاءوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يقرفون فيه فيزيدون". "حم ت عن ابن عباس م ت عنه عن رجل من الأنصار".
17674 یہ ستارے (جو ٹوٹتے ہیں) کسی کی موت یا زندگی پر نہیں مارے جاتے بلکہ ہمارا پروردگار تبارک وتعالیٰ جب کسی معاملے کا فیصلہ کردیتا ہے تو حاملین عرش اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ پھر ان کے قریب آسمان والے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس دنیا کے آسمان والے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ پھر حاملین عرش کے قریب آسمان والے فرشتے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں : تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ؟ وہ بتاتے ہیں کہ اللہ نے کیا فرمایا۔ اس طرح آسمان والے ایک دوسرے سے وہ خبر پوچھتے ہیں حتیٰ کہ خبر آسمان دنیا پر پہنچ جاتی ہے۔ پھر جنات بات کو اچک لیتے ہیں اور اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں، پس جو خبر اس طرح آتی ہے وہ حق ہوتی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا لیتے ہیں اور اضافے کرلیتے ہیں۔
مسند احمد، الترمذی عن ابن عباس (رض) مسلم، الترمذی عنہ عن رجل من الانصار