17683- عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال: "مر عامر بن ربيعة بسهل بن حنيف وهو يغتسل فقال: لم أر كاليوم ولا جلد مخبأة فما لبث أن لبط به فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقيل له أدرك سهلا صريعا فقال: من تتهمون به؟ قالوا: عامر بن ربيعة، قال: علام يقتل أحدكم أخاه؟ إذا رأى أحدكم من أخيه أمرا يعجبه فليدع بالبركة، ثم أمره فغسل وجهه ويديه إلى مرفقيه وركبتيه وداخلة إزاره فرش عليه". "ن وأبو نعيم"
17683 ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ عامر بن ربیعہ سہل بن حنیف کے پاس سے گزرے سہل غسل کررہے تھے۔ عامر نے کہا : میں نے آج جیسا منظر نہیں دیکھا اور نہ ایسی چھپی ہوئی جلد دیکھی۔ پس تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ سہل پچھاڑ کھا کر گرگئے۔ ان کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ اور آپ کو کہا گیا کہ سہل کو مرگی ہوگئی ہے۔ پوچھا : تم پر کس پر تہمت لگاتے ہو ؟ (کسی نے نظر لگائی ہے ؟ ) لوگوں نے کہا : عامر بن ربیعہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں کوئی اپنے پھائی کو قتل کرتا ہے اور جب وہ اپنے بھائی کو کوئی اچھی چیز دیکھتا ہے تو اس کی برکت کی دعا کیوں نہیں دیتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامر کو حکم دیا اور اس نے اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور پاؤں گھٹنوں تک اور شرمگاہ دھوئی پھر اس پانی کو سہل پر چھڑک دیا گیا (جس سے نظر اتر گئی۔ )
النسائی، ابونعیم