17771- عن أبي عثمان قال: "لما شهد أبو بكرة وصاحباه على المغيرة جاء زياد، فقال عمر: رجل لن يشهد إن شاء الله إلا بحق، قال: رأيت ابتهارا1 ومجلسا سيئا، فقال عمر: هل رأيت المرود دخل المكحلة؟ قال: لا، فأمر بهم فجلدوا"."ش ق".
17771 ۔۔۔ ابو عثمان (رح) سے مروی ہے کہ جب ابوبکرۃ (رض) اور ان کے دو ساتھیوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (گورنر) پر (زناء کی) گواہی دی تو چوتھے نمبر پر زیاد گواہی کے لیے سامنے آیا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے (الہامی بات) ارشاد فرمائی : ان شاء اللہ یہ آدمی صحیح گواہی ہی دے پائے گا ، چنانچہ اس نے کہا : میں نے تیز تیز سانسوں کی آواز سنی اور بری مجلس دیکھی ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے دریافت فرمایا ، کیا تو نے سلائی کو سرمہ دانی میں داخل ہوتا دیکھا ؟ زیاد نے انکار میں جواب دیا ، چنانچہ بقیہ (گواہ بھی جھوٹے پڑگئے اور وہ چار شہادتوں کی تعداد پوری نہ کرسکے اس لیے) آپ (رض) نے ان کو (تہمت کی سزا میں کوڑے مارنے کا) حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، بخاری ، مسلم )