18540- عن الحسن عن سمرة بن جندب قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ليلة أضحيان وعليه حبر، فكنت أنظر إليه وإلى القمر فلهو في عيني أزين من القمر. "كر وقال المحفوظ عن جابر بن سمرة".
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار چیزوں پر سکوت فرماتے تھے : علم ، حذر ، (احتیاط) ، تدبر ، اور فکر (ان چار چیزوں کی سوچ میں خاموش رہتے تھے) تدبر تو لوگوں کو دیکھنے اور سننے میں فرماتے تھے ، فکر دنیا کی فانی چیزوں اور آخرت کی باقی چیزوں میں فرماتے تھے ، اور بردباری اور صبر کا آپ کو خزانہ نصیب ہوا تھا پس کوئی شی آپ کو کمزور کرسکتی تھی اور نہ آپ کو اکتاہٹ اور جھنجھلاہٹ صبر چھوڑنے پر مجبور کرسکتی تھی ۔ احتیاط آپ کو چار چیزوں میں ملی تھی ۔ اچھی چیز کو لینے میں تاکہ اس کی اقتداء و پیروی کی جائے ، برائی کو چھوڑنے میں تاکہ اس سے روکا جائے ، امت کی اصلاح میں اپنے رائے میں احتیاط کرنا اور امت کے لیے دنیا و آخرتکی بھلائی جمع کرنا ۔ (ترمذی فی الشمائل ، الرویانی ، الکبیر للطبرانی ، البیھقی فی الدلائل ، مصنف عبدالرزاق ، ابن عساکر)