1856 – "ذاكر الله في الغافلين كالمقاتل عن الفارين، وذاكر الله في الغافلين كالمصباح في البيت المظلم وذاكر الله في الغافلين يعرف له مقعده، ولا يعذب بعده، وذاكر الله في الغافلين له من الأجر بعدد كل فصيح وأعجم، وذاكر الله في الغافلين ينظر الله إليه نظرة لا يعذبه أبدا، وذاكر الله في السوق له بكل شعرة نور يوم يلقى الله". (هب عن ابن عمر) .
١٨٥٦۔۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والاایسا ہے جیسا کہ دوران جہاد راہ فرار اختیار کرنے والوں کے درمیان جہاد میں صبر کرنے والا اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے تاریک گھر میں چراغ۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے کو اس کا ٹھکانا شناخت کروادیاجاتا ہے۔ اور اس کے بعد اس سے عذاب کو دفع کردیاجاتا ہے۔ اور غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنیوالے کو ہر انسان وحیوان کے برابر اجر ملتا ہے۔ غافلین کے درمیان اللہ کا ذکر کرنے والے وک اللہ ایسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد اس کو عذاب نہ فرمائیں گے اور بازار میں اللہ کا ذکر کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے قیامت کے دن ملاقات کے وقت ایک ایک نور ہوگا۔ شعب الایمان بروایت ابن عمر (رض)۔