18566- عن علي سئل عن نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أبيض اللون مشربا بحمرة، أدعج العينين سبط الشعر ذا وفرة، دقيق المسربة سهل الخد، كث اللحية، كأن عنقه إبريق فضة من لبته إلى سرته شعر يجري كالقضيب، ليس في بطنه ولا ظهره شعر غيره، شثن الكف والقدم، إذا مشى كأنما ينحدر من صبب وإذا مشى كأنما يتقلع من صخرة، وإذا التفت التفت جميعا، كأن عرقه في وجهه اللؤلؤ، ولريح عرقه أطيب من المسك الأذفر، ليس بالطويل ولا بالقصير ولا العاجز ولا اللئيم، لم أر قبله ولا بعده مثله صلى الله عليه وسلم. "ق فيه كر"
سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بالکل لمبے اور نہ کوتاہ قد تھے بلکہ عام لوگوں سے زیادہ قد آور تھے ۔ سرخی مائل سفید رنگت والے تھے ۔ گھنگھریالے بالوں والے تھے ، آپ کے بال کانوں کی لو تک جا رہے تھے ، ہموار پیشانی والے اور ہموار رخساروں والے ، ملی ہوئی بھنوؤں والے ، آپ کی آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں ۔ (سیدھی انگلیوں اور سیدھے ناخنوں والے تھے) ناک کا بانسہ بلند تھا۔ سینے سے ناف تک بالوں کی ایک لمبی لکیر تھی ، سامنے کے دانتوں میں کشادگی تھی ، داڑھی گھنی تھی ، آپ کی گردن چاندی کی صراحی جیسی تھی ، آپ کی ہنسلیوں میں گویا سونا چلتا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پر پسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا ۔ ہاتھ اور پاؤں بھرے بھرے تھے سینے پر جو بالوں کی لمبی لکیر تھی اس کے علاوہ کمر اور پیٹ پر بال نہ تھے آپ کے منہ سے مشک کی خوشبو پھوٹتی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھڑے ہوتے تو فضیلت و شرافت میں سب پر حاوی ہوجاتے تھے ۔ جب چلتے تھے تو گویا کسی چٹان سے پاؤں اکھاڑ رہے ہیں (یعنی قوت سے قدم اٹھاتے تھے سستی وکاہلی سے قدم کھینچتے نہ تھے) جب کس طرف متوجہ ہوتے تو پورے سراپا کے ساتھ متوجہ ہوتے جب نیچے اترتے تو محسوس ہوتا گویا کسی نشیبی وادی میں اتر رہے ہیں تمام انسانوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اخلاق والے تھے ، آپ کا ہاتھ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھا۔ آپ سے پہلے جیسا کوئی نہیں گذرا اور نہ آپ کے بعد آپ جیسا کوئی بھی آسکتا ہے۔