18625- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن الشفاء بنت عبد الله قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فسألته وشكوت إليه فجعل يعتذر إلي، وجعلت ألومه، ثم حانت صلاة الأولى، فدخلت بيت ابنتي وهي عند شرحبيل بن حسنة، فوجدت زوجها في البيت فوقعت به ألومه حضرت الصلاة الأولى وأنت ها هنا، فقال: يا عمة لا تلوميني كان لي ثوبان استعار أحدهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدت في نفسي من ذلك، فقلت: ومن يلومه وهذا شأنه. "كر".
18625 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) حضرت شفاء بنت عبداللہ (رض) سے روایت کرتے کہ فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے ۔ میں آپ سے آپ کا حال پوچھنے لگی ۔ اور شکوہ و شکایت بھی کیا (کہ مجھے کچھ دیتے نہیں) آپ بھی مجھ سے معذرت فرمانے لگے ۔ پھر نماز کا وقت آگیا ۔ میں اپنی بیٹی کے گھر میں داخل ہوئی جو شرجیل بن حسنہ کے عقد میں تھیں ۔ میں نے بیٹی کے شوہر شرجیل کو گھر میں موجود پایا وت اس کو ملامت وسرزنش کی کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے (حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو چلے گئے ہیں) اور تم یہاں بیٹھے ہو۔ انھوں نے کہا : اے پھوپھی جان ! مجھے برا بھلا نہ کہو ۔ میرے پاس دو ہی کپڑے تھے ۔ ایک کپڑا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مانگے سے (عاریتا) لے گئے ہیں ، شفاء فرماتی ہیں : تب مجھے اپنے دل میں شرمندگی کا احساس ہوا اور کہنے لگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حال ہے اور پھر کس کو زیب دیتا ہے کہ آپ کو ملامت کرے ۔ (رواہ ابن عساکر)