18655- عن أسيد بن حضير قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان فيه مزاح يحدث القوم ليضحكهم، فطعنه رسول الله صلى الله عليه وسلم في خاصرته، فقال: أصبرني، فقال: اصطبر، قال: إن عليك قميصا وليس علي قميص، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه فأحتضنه وجعل يقبل كشحه ويقول: إنما أردت هذا يا رسول الله. "طب".
18655 ۔۔۔ اسید بن حضیر سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت تھے ۔ اسید بن حضیر فرماتے ہیں میں لوگوں سے ہنسی مزاح کررہا تھا ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کولہے پر کچوکا لگایا پھر فرمایا : لو مجھ سے بھی بدلہ لے لو ۔ اسید میں نے عرض کیا : بدلہ لوں ؟ حالانکہ مجھ پر قمیص نہیں تھی جبکہ آپ پر قمیص ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص اٹھا دی۔ میں آپ کو چمٹ گیا اور آپ کے پہلو کو بوسے دینے لگا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا یہی ارادہ تھا ۔ (الکبیر للطبرانی)