hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18666

.

كنز العمال

18666
Kanz al-Ummal
18666- عن قيس بن وهب عن رجل من بني سراة قال: قلت لعائشة: أخبريني عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: أما تقرأ القرآن "وإنك لعلى خلق عظيم" قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أصحابه فصنعت له طعاما، وصنعت له حفصة طعاما، فسبقتني حفصة، فقلت للجارية انطلقي فاكفئي قصعتها، فأهوت أن تضعها بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم فكفأتها فانكسرت القصعة فانتثر الطعام فجمعها النبي صلى الله عليه وسلم وما فيها من الطعام على الأرض فأكلوا، ثم بعثت بقصعتي، فدفعها النبي صلى الله عليه وسلم إلى حفصة فقال: خذوا ظرفا مكان ظرفكم، وكلوا ما فيها، قالت: فما رأيته في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش".
18666 ۔۔۔ قیس بن وہب سے مروی ہے کہ وہ بنی سراۃ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے دریافت فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کیسے تھے ؟ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو : ” وانک لعلی خلق عظیم “۔ ور بیشک آپ عظیم اخلاق پر (قائم) تھے ۔ پھر فرمایا ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ تھے ۔ میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ۔ حفصہ (رض) نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا ۔ لیکن حفصہ (رض) نے مجھ سے پہلے تیار کرلیا ، میں نے باندی کو کہا تو جا اور حفصہ (رض) کے کھانے کا پیالہ گرا دے ۔ پس حفصہ (رض) آپ کے سامنے کھانا رکھ رہی تھی کہ باندی نے ہاتھ مار کر کھانا گرا دیا ۔ پیالہ بھی ٹوٹ گیا اور کھانا بکھر گیا ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹوٹے پیالہ کو اٹھایا اور جو کچھ اس میں کھانا تھا وہ بھی زمین سے اٹھا اٹھا کر اس میں ڈلا۔ پھر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ مل کر وہی کھانا تناول فرما لیا ۔ پھر میں نے اپنا پیالہ آپ کے پاس بھیج دیا ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ پیالہ کھانے سے بھرا ہوا حضرت حفصہ (رض) کو بھیج دیا اور کہلوایا پیالہ پیالے کے بدلے ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ تم کھالو ۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں میں نے آپ کے چہرے پر اس فعل کی وجہ سے کوئی (ناگوار) اثرات نہیں دیکھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)