18705- عن معاوية بن حيدة أخذ النبي صلى الله عليه وسلم ناسا من قومي فحبسهم، فجاء رجل من قومي النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال: يا محمد علام تحبس جيراني؟ فصمت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن ناسا يقولون: إنك تنهى عن الشر وتستخلي به؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما تقول؟ فجعلت أعرض بينهما بكلام مخافة أن يسمعها، فيدعو على قومي دعوة لا يفلحون بعدها، فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم حتى فهمها، فقال: أقد قالوها أو قال قائلها منهم؟ والله لو فعلت لكان علي وما كان عليهم، خلوا له عن جيرانه. "عب".
18705 ۔۔۔ معاویہ بن حیدہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قوم کے چند افراد کو قید کرلیا ۔ میری قوم میں سے ایک شخص حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ اس نے کہا : اے محمد ! میری قوم کے لوگوں کو آپ نے کس وجہ سے قید کر رکھا ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ۔ آدمی بولا : لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ شر و فساد کو روکتے ہیں ، ادھر تو آپ خود اکیلے اس میں مبتلا ہیں۔ معاویہ بن حیدہ (رض) فرماتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ تو میں بیچ میں آکر دونوں کے درمیان نرم رویے اور افہام تفہیم کی کوشش کرنے لگا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کی سخت بات سن کر کہیں میری قوم کو بددعا نہ دے دیں جس کے خمیازے میں ان کے لیے ہمیشہ کے واسطے فوز و فلاح کے دروازے بند ہوجائیں ، چنانچہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل بات سننے سمجھنے لگے حتی کہ آپ کو بات سمجھ آگئی اور آپ نے ارشاد فرمایا : کیا ان لوگوں نے (اس کلمہ اسلام) کو کہہ لیا ہے ؟ یا ان میں سے کچھ ہی لوگوں نے کہہ لیا ہے ؟ واللہ اگر ایسا ہے اور میں نے ان کو قید کیا تب تو ان کا وبال مجھ پر ہوگا اور ان پر کوئی (قید وبند اور) سزا نہیں ہے۔ لہٰذا اس شخص کے ساتھیوں کو چھوڑ دو ۔ (مصنف عبدالرزاق)