hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18741

.

كنز العمال

18741
Kanz al-Ummal
18741- عن موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي قال: وجدت هذا في صحيفة بخط أبي فيها: لما كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع على سريره دخل أبو بكر وعمر فقالا: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ومعهما نفر من المهاجرين والأنصار قدر ما يسع البيت فسلموا كما سلم أبو بكر وعمر، وصفوا صفوفا لا يؤمهم عليه أحد، فقال أبو بكر وعمر وهما في الصف الأول حيال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم إنا نشهد أن قد بلغ ما أنزل إليه ونصح لأمته وجاهد في سبيل الله حتى أعز الله دينه وتمت كلماته فآمن به وحده لا شريك له، فاجعلنا يا إلهنا ممن يتبع القول الذي أنزل معه واجمع بيننا وبينه حتى يعرفنا ونعرفه، فإنه كان بالمؤمنين رؤفا رحيما، لا نبتغي بالإيمان بدلا، ولا نشتري به ثمنا أبدا، فيقول الناس: آمين آمين، ثم يخرجون ويدخل عليه آخرون حتى صلوا عليه، الرجال، ثم النساء، ثم الصبيان، فلما فرغوا من الصلاة تكلموا في موضع قبره. "ابن سعد"
18741 ۔۔۔ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد کا لکھا ہوا ایک مکتوب گرامی پایا جس میں لکھا تھا : جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا اور آپ کو چارپائی پر رکھ دیا گیا تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اندر داخل ہوئے اور بولے : ” السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ ان دونوں حضرات کے ساتھ اور بھی لوگ داخل ہوئے جس قدر اس کمرے میں سما سکتے تھے ۔ جو مہاجرین اور انصار دونوں گروہوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ انھوں نے بھی حضرات ابوبکر وعمر (رض) کی طرح سلام کیا ۔ پھر سب نے صفیں بنالیں ۔ حضرات ابوبکر وعمر (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پہلی صف میں تھے ۔ دونوں نے کہنا شروع کیا : للہم انا نشھد ان قد بلغ ما انزل الیہ ونصح لا متہ وجاھد فی سبیل اللہ حتی اعز اللہ دینہ وتمت کلماتہ فامن بہ وحدہ لا شریک لہ ، فاجعلنا یا الھنا ممن یتبع القول الذی معہ واجمع بیننا وبینہ حتی یعرفا ونعرفہ فانہ کان بالمؤمنین رؤفا رحیما، لا نبتغی بالایمان بدلا، ولا نشتری بہ ثمنا ابدا “۔ ” اے اللہ ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حق رسالت ادا کردیا ، امت کے لیے پوری خیر خواہی برتی ، اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا حتی کہ اللہ نے ان کے دین کو غالب کردیا ان کے دین کے احکام مکمل ہوئے۔ آپ اللہ پر ایمان لے آئے جو وحدہ لاشریک ہے۔ اے اللہ ! ہم کو ان لوگوں میں سے بنا جو اس کلام پر عمل کرتے ہیں جو ان کے ساتھ نازل ہوا ۔ ہم کو اور ان کو آپس میں جمع کر دے تاکہ یہ ہم کو پہچانیں اور ہم ان کو پہچانیں بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤمنین پر مہربان اور رحم کرنے والے ہیں۔ ہم ایمان کا کوئی بدل نہیں چاہتے ، اور نہ اس کے عوض کوئی مال چاہتے کبھی بھی ۔
بقیہ حضرات سب آمین آمین کہتے رہے ۔ پھر یہ نکل جاتے اور دوسرے لوگ داخل ہوجاتے حتی کہ یوں پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچوں نے آپ پر درود وسلام بھیجا ۔ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو پھر آپ کی قبر کی جگہ کی بحث چھڑ گئی ۔ (ابن سعد)