18762- عن عمرة بنت عبد الرحمن عن أمهات المؤمنين أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: كيف نبني قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أنجعله مسجدا؟ فقال أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد، قالوا: فكيف نحفر له: فقال أبو بكر: إن من أهل المدينة رجلا يلحد، ومن أهل مكة رجل يشق، اللهم فأطلع علينا أحبهما إليك أن يعمل لنبيك، فاطلع أبو طلحة وكان يلحد، فأمره أن يلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثم دفن ونصب عليه اللبن. "أبو بكر محمد بن حاتم بن زنجويه البخاري في كتاب فضائل الصديق".
18762 ۔۔۔ عمرہ بنت عبدالرحمن ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے روایت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے موقع پر کہنے لگے : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کیسے بنائیں ؟ کیا اس کو مسجد بنادیں ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : للہ پاک یہود و نصاری پر لعنت کرے انھوں نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پوچھا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کیسی بنائیں ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : ایک شخص مدینہ کا لحدی (بغلی) قبر بناتا ہے اور ایک شخص مکہ کا شق (سیدھی) قبر بناتا ہے۔ پس اے اللہ تیرے نزدیک جو محبوب قبر ہو اس کے بنانے والے کو مطلع کر دے وہ تیرے نبی کی قبر بنا دے ، پس ابو طلحہ جو لحدی قبر بناتے تھے اس کو اطلاع ہوگئی ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قبر بنائیں ، چنانچہ پھر آپ کو (لحدی قبر میں) دفن کیا گیا اور اس پر (کچی) اینٹیں پاٹ دی گئیں ۔ (ابوبکر محمد بن حاتم بن زنجویہ البخاری فی کتاب فضائل الصدیق)