18764- عن عمر مولى عفرة قال: لما ائتمروا في دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال قائل: ندفنه حيث كان يصلي في مقامه، وقال أبو بكر: معاذ الله أن نجعله وثنا يعبد، وقال آخرون: ندفنه في البقيع حيث دفن إخوانه من المهاجرين، قال أبو بكر: إنا نكره إن خرج قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى البقيع فيعوذ به عائذ من الناس، لله عليه حق، وحق الله فوق حق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن أخذنا به ضيعنا حق الله، وإن أخفرناه أخفرنا قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا: فما ترى أنت يا أبا بكر؟ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما قبض الله نبيا قط إلا دفن حيث قبض روحه، قالوا: فأنت والله رضي مقنع، ثم خطوا حول الفراش خطا ثم احتمله علي والعباس والفضل وأهله، ووقع القوم في الحفر يحفرون حيث كان الفراش. "محمد بن حاتم في فضائل الصديق. قال ابن كثير، وهو منقطع من هذا الوجه، فإن عمر مولى عفرة مع ضعفه لم يدرك أيام الصديق".
18764 ۔۔۔ عفرۃ کے غلام عمر سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اختلاف ہوا تو کسی نے کہا : ہم آپ کو اس جگہ دفنا دیتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر آپ نماز پڑھاتے تھے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : معاذ اللہ اللہ کی پناہ مانگو کہ ہم آپ کو معبود بنالیں ۔ دوسروں نے کہا : جہاں آپ کے مہاجرین بھائی مدفون ہیں وہاں البقیع میں دفن کردیتے ہیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم کو یہ بات ناپسند ہے کہ قبرستان میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر ہو اور وہاں کوئی دعا مانگنے والا آپ سے دعا مانگنے لگ جائے حالانکہ یہ حق اللہ کا ہے اور اللہ کا حق رسول کے حق پر مقدم ہے۔ اگر ہم ایسا ہونے دیں گے تو اللہ کا حق ضائع ہوگا ، اور اگر پھر بعد میں وہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کو کھودیں گے تو یہ کھلی بےادبی ہوگی ۔ لوگوں نے کہا : پھر آپ کا کیا خیال ہے اے ابوبکر ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے جس نبی کی روح قبض فرمائی اس کو وہیں دفن کیا گیا جہاں اس کی روح قبض ہوئی تھی ، لوگوں نے کہا : پس اللہ کی قسم ! آپ کی بات بالکل درست ہے اس پر سب کی رضا مندی ہے۔ پھر لوگوں نے آپ کے بستر کے گرد خط کھینچا ۔ پھر آپ کو علی ، عباس ، فضل اور آپ کے گھر والوں نے اٹھایا اور دوسرے لوگ اس جگہ قبر کھودنے لگے جہاں بستر تھا ۔ (محمد بن حاتم فی فضائل الصدیق) کلام : ۔۔۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ روایت اس طریق کے ساتھ منقطع ہے۔ کیونکہ عفرۃ کے غلام عمر ضعیف ہونے کے ساتھ ایام خلافت صدیق میں نہیں تھے ۔