hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18769

.

كنز العمال

18769
Kanz al-Ummal
18769- عن عائشة أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم سألت أبا بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقسم لها ميراثها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم مما أفاء الله، فقال لها أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا نورث ما تركنا صدقة، فغضبت فاطمة فهجرت أبا بكر، فلم تزل مهاجرة له حتى توفيت، وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر، فكانت فاطمة تسأل أبا بكر نصيبها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر وفدك وصدقته بالمدينة، فأبى أبو بكر ذلك، وقال: لست تاركا شيئا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به إلا عملت به، فإني أخشى إن تركت شيئا من أمره أن أزيغ، فأما صدقته بالمدينة فدفعها عمر إلى علي والعباس فغلب علي عليها، وأما خيبر وفدك فأمسكهما عمر وقال: هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانتا لحقوقه التي تعروه ونوائبه وأمرهما إلى من ولي الأمر، قال: فهما على ذلك إلى اليوم. "حم خ م هق".
18769 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو غنیمت کے مال میں سے ترکہ چھوڑا ہے وہ ہمارے درمیان تقسیم فرما دیں۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ان کو فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اس بات پر فاطمہ (رض) غصہ ہوگئیں اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے بات چیت چھوڑ دی ، اور اسی ترک تعلقات کی حالت میں وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں ۔ حضرت فاطمہ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد چھ ماہ زندہ رہی تھیں ۔ فاطمہ (رض) ابوبکر (رض) سے اپنے حصہ کا سوال کر رہی تھیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر ، فدک ، اور مدینہ کے صدقا میں سے پیچھے چھوڑا تھا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس سے انکار فرما دیا تھا اور فرمایا تھا : میں کوئی کام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے نہیں چھوڑوں گا بلکہ میں اس پر عمل کروں گا ، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ کا کوئی کام چھوڑ دیا تو میں راستے سے بھٹک جاؤں گا ۔ پھر مدینہ والا صدقہ تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے علی وعباس (رض) کو دے دیا تھا ۔ لیکن علی (رض) عباس (رض) پر غالب آگئے ،۔ جبکہ خیبر اور فدک کو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اپنے پاس روک لیا اور فرمایا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ صدقہ ہے جو اسلام میں پیش آمدہ مصائب اور درپیش مسائل پر خرچ ہوتا تھا اور ان دونوں صدقات کا محافظ وہ ہوگا جو مسلمانوں کا امیر ہوگا ، پس وہ دونوں مال اسی حالت پر ہیں۔ (مسند احمد ، بخاری ، مسلم ، السنن للبیہقی)