18811- عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم أن المغيرة بن شعبة ألقى في قبر النبي صلى الله عليه وسلم بعد أن خرجوا خاتمه لينزل فيه، فقال علي بن أبي طالب: إنما ألقيت خاتمك لكي تنزل فيه فيقال: نزل في قبر النبي صلى الله عليه وسلم، والذي نفسي بيده لا تنزل فيه أبدا ومنعه. "ابن سعد".
18811 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں اپنی انگوٹھی گرا دی تھی ۔ جبکہ قبر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتارنے والے حضرات پہلے نکل چکے تھے ۔ حضرت مغیرہ (رض) نے یہ کام اس لیے کیا تھا تاکہ ان کو قبر میں اترنے کا موقعہ مل جائے ۔ لہٰذا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ان کو فرمایا : تم نے انگوٹھی قبر میں اس لیے گرائی ہے تاکہ تم بھی اترو اور کہا جائے کہ مغیرہ بھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں اترا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ہرگز قبر میں نہیں اترو گے ۔ اور ان کو روک دیا ۔ (رواہ ابن سعد)