18813- عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده أن عليا غسل النبي صلى الله عليه وسلم والعباس يصب الماء وأسامة وشقران يحفظان الباب، فلما فرغوا، قال العباس: محزنة على رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أدفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في التراب، ولكن أعد له صندوقا واجعله في بيتي، فإذا كربني أمر نظرت إليه، فقال علي للعباس: يا عم ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدفن أولاده؟ ثم تلا هذه الآية: {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} ثم تلا: {أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتاً أَحْيَاءً وَأَمْوَاتاً} ، فبينما هم كذلك إذ هتف بهم هاتف من ناحية البيت، فقال: السلام عليكم أهل البيت، كل نفس ذائقة الموت وإنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب، فقال علي للعباس: اصبر يا عم رسول الله، فقد ترى ما وعد الله على لسان نبيه، فقال العباس: يا علي إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تكون قبور الأنبياء في موضع فرشهم، قال: فكفنوه في قميصين أحدهما أرق من الآخر وصلى عليه العباس وعلي صفا واحدا وكبر عليه العباس خمسا ودفنوه. "ابن معروف وفيه عبد الصمد".
18813 ۔۔۔ عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا ، عباس (رض) پانی ڈالتے جا رہے تھے ، اسامہ اور شقران (رض) دروازے کی حفاظت پر مامور تھے ۔ جب غسل دینے سے فارغ ہوئے تو حضرت عباس (رض) نے فرمایا : رنج کا مقام ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مٹی میں ڈالیں ۔ لہٰذا میں آپ کے لیے ایک صندوق تیار کراتا ہوں اور اس (میں آپ کو لٹا کر) صدوق کو اپنے گھر کے کونے میں رکھ لوں گا ۔ پس جب مجھے رنج وغم ہوگا تو میں آپ کو دیکھ لیا کروں گا ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت عباس (رض) کو فرمایا : اے چچا جان ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی اولاد کو دفن کرتے نہیں دیکھا ؟ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت)” منھا خلقنا کم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “۔ سی (زمین) سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت)” الم نجعل الارض کفاتا احیاء وامواتا “۔ کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں (سب) کے لیے کفایت کرنے والی نہیں کردیا ۔ بھی لوگ اسی طرح کی باتوں میں مصروف تھے کہ گھر کے کونے سے ایک غیبی آواز آئی : لسلام علیکم اے گھر والو ! (آیت)” کل نفس ذائقۃ الموت وانما یوفون اجرھم بغیر حساب “۔ ہر جی کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور لوگوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے پورا پورا دیا جائے گا ۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت عباس (رض) کو فرمایا : اے رسول اللہ کے چچا ! آپ کیا خیال کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ ان کی زبان پر کیا کیا وعدے کیے ہیں ؟ پھر حضرت عباس (رض) نے فرمایا : اے علی ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : انبیاء کی قبریں انھیں کے (مرنے کے) بستروں کی جگہ ہوتی ہیں۔ پھر لوگوں نے آپ کو دو قمیصوں میں کفن دیا ایک قمیص دوسری سے کچھ باریک تھی ۔ اور آپ پر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت عباس (رض) نے ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور حضرت عباس (رض) نے آپ پر پانچ تکبیریں ادا فرمائیں ۔ اور آپ کو دفن کیا (ابن معروف وفی عبدالصمد)