18827- عن العباس بن عبد المطلب قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم عند وفاته فجعل سكرة الموت تذهب به طويلا، ثم سمعته يهمس: مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن أولئك رفيقا، ثم يغلب عليه، ثم يعود فيقول مثلها، ثم قال: أوصيكم بالصلاة أوصيكم بما ملكت أيمانكم ثم قضى عندها. "كر".
18827 ۔۔۔ عباس بن عبدالمطلب سے مروی ہے میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے وقت آپ کے پاس موجود تھا ۔ سکرۃ الموت (موت کی کیفیت) آپ پر طویل ہوتی جا رہی تھی پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پست آواز میں پڑھتے ہوئے سنا : ” مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا “۔ (اے اللہ ! مجھے وفات دے کر شامل کر دے) ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے : انبیاء صدیقین ، شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ بہت اچھے رفیق ہیں۔ پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوجاتی پھر افاقہ ہوتا تو یہی پڑھتے پھر (ایک مرتبہ) آپ نے فرمایا : میں تم کو نماز کی وصیت کرتا ہوں ، میں تم کو وصیت کرتا ہوں اپنے مملوکوں کے ساتھ خیر خواہی کی ۔ س کے بعد آپ کی روح قبض ہوگئی ۔ (رواہ ابن عساکر)