hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18829

.

كنز العمال

18829
Kanz al-Ummal
18829- عن أبي سعيد قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن في المسجد، وهو عاصب رأسه بخرقة في المرض الذي مات فيه فأهوى قبل المنبر حتى استوى عليه، فأتبعناه فقال: والذي نفسي بيده إني لقائم على الحوض الساعة وقال: إن عبدا عرضت عليه الدنيا وزينتها، فاختار الآخرة فلم يفطن لها أحد إلا أبو بكر، فذرفت عيناه فبكى وقال: بأبي أنت وأمي بل نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأنفسنا وأموالنا قال: ثم هبط فما قام عليه حتى الساعة. "ش".
18829 ۔۔۔ ابو سعید (رض) سے مروی ہے ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس نکل کر تشریف لائے ۔ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی اسی مرض کی وجہ سے جس میں آپ کی وفات ہوئی ۔ پھر آپ منبر پر تشریف لائے۔ ہم آپ کے قریب اکٹھے ہوگئے ۔ ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قیامت کے دن میں حوض پر کھڑا ہوا ملوں گا ۔ پھر فرمایا : ایک بندے پر دنیا اور اس کی زیب وزینت پیش کی گئی تھی لیکن اس نے آخرت کو پسند کرلیا ہے۔ اس بات کو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے سوا کوئی نہ سمجھ سکا ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور وہ رو پڑے ، انھوں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کے بدلے ہمارے ماں باپ ، ہماری جانیں اور ہمارے اموال حاضر ہیں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اتر کر تشریف لے گئے اس کے بعد اس منبر پر قیامت تک نہیں کھڑے ہوئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)