18849- عن عروة قال: لما فتح الله خيبر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل من قتل منهم، أهدت زينب بنت الحارث اليهودية وهي بنت أخي مرحب شاة مصلية وسمته فيها، وأكثرت في الكتف والذراع حين أخبرت أنهما أحب أعضاء الشاة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه بشر بن البراء بن معرور أخو بني سلمة قدمت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتناول الكتف والذراع، فانتهش منهما، وتناول بشر عظما آخر وانتهش منه، فلما أدغم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما في فيه أدغم بشر ما في فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ارفعوا أيديكم فإن كتف الشاة تخبرني أني قد بغيت فيها، فقال بشر بن البراء: والذي أكرمك لقد وجدت ذلك في أكلتي التي أكلت وإن منعني أن ألفظها إلا إني كرهت أن أنغصك طعامك، فلما أكلت ما في فيك لم أرغب بنفسي عن نفسك ورجوت أن لا تكون أدغمتها وفيها بغي، فلم يقم بشر من مكانه حتى عاد لونه كالطيلسان وماطله وجعه حتى كان ما يتحول إلا حول وبقي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعده ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي مات فيه. "طب، ش".
18849 ۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے خیبر کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں پر فتح فرما دیا اور ان میں بہت سوں کو قتل کردیا تو زینب بنت الحارث یہودیہ نے جو مرحب یہودی کی بھتیجی تھی ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کی ۔ اور اس میں زہر ملا دیا ۔ اور جب اس کو خبر ملی کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شانے اور ستیوں کا گوشت زیادہ پسند فرماتے ہیں تو اس نے ان اعضاء میں زہر خوب اچھی طرح ملا دیا ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بنی سلمہ کے بشر بن البراء بن معرور دونوں تشریف لائے تو اس عورت نے وہ بکری ہدی میں پیش کی ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شانے اور دستیوں کو نوچ کر کھایا ، جبکہ بشر نے دوسری ہڈی سے گوشت نوچ کر کھایا ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منہ میں موجود گوشت نگل لیا تو بشر نے بھی نگل لیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بکری سے ہاتھ اٹھالو ، بکری کا شانہ مجھے بتارہا ہے کہ مجھے اس میں دھوکا دیا گیا ہے۔ بشر نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ! میں نے وہ زہر اپنے لقمے میں محسوس کرلیا تھا لیکن مجھے تھوکنے سے یہ مانع ہوئی کہ آپ کے کھانے کو منغص (کرکرا) کر دوں ۔ جب آپ نے کھالی تو مجھے بھی آپ کی جان کے بعد اپنی جان کے ساتھ کوئی رغبت نہیں رہی ۔ میری خواہش تھی کہ آپ اس کو نہ نگلتے ۔ پھر بشر اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھے تھے کہ ان کا رنگ سبز چادر کی طرح ہوگیا اور تکلیف نے ان کو دہرا کردیا ۔ اور ان کو جس طرح کیا جاتا ہوجاتے تھے ۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے بعد تین سال زندہ رہے اور پھر اس زہر کی تکلیف میں آپ کو مرض الموت لاحق ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی ۔ (الکبیر اللطبرانی ، ابن ابی شیبۃ)