hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 18852

.

كنز العمال

18852
Kanz al-Ummal
18852- "مراسيل عبد الرحمن بن القاسم" عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: صلى صلى الله عليه وسلم في اليوم الذي مات فيه صلاة الصبح في المسجد، فمن الناس من يقول: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر يصلي، فقعد عند رجليه، ومن الناس من يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم المتقدم وعظم يرون أن أبا بكر كان المتقدم، فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا صفية بنت عبد المطلب يا عمة رسول الله، ويا فاطمة بنت محمد، اعملا فإني لا أغني عنكما من الله شيئا، قال أبو بكر: يا رسول الله أراك اليوم بحمد الله مفيقا، واليوم يوم ابنة خارجة، فاستأذن إليها فأذن له وهي بالسنح فزعموا أنه ميل أو ميلان من المدينة، وثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوفي من يومه. "ابن جرير".
18852 ۔۔۔ (مراسیل عبدالرحمن بن القاسم) عبدالرحمن بن القاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : جس روز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی اس روز صبح کی نماز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں ادا فرمائی تھی ۔ بعض لوگ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ابوبکر کے پاؤں کے پاس بیٹھ گئے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے تھے ۔ لیکن اکثر لوگوں کا خیال کہتا ہے کہ ابوبکر (رض) آگے تھے ۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھ لی تو فرمایا : اے صفیہ بنت عبدالمطلب ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی ! اور اے فاطمہ بنت محمد ! عمل کرتی رہنا ، میں اللہ سے تم کو کوئی چھٹکارا نہیں دلا سکتا ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج میں آپ کو افاقہ مند (صحت مند) دیکھ رہا ہوں ، اور خارجہ کی بیٹی کا دن ہے۔ (سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی اہلیہ) چنانچہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کے پاس جانے کے لیے اجازت مانگی آپ نے اجازت دے دی ، یہ سخ میں رہتی تھی جو مدینہ سے ایک یا دو میل کے فاصلہ پر تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بوجھل ہوگئے اور اس دن وفات پا گئے ۔ (رواہ ابن جریر)