18880- أتاني جبريل من عند الله تبارك وتعالى فقال: يا محمد إن الله عز وجل يقول: إني افترضت على أمتك خمس صلوات من أوفى بهن على وضوئهن ومواقيتهن وركوعهن وسجودهن كان له بهن عهد أن أدخله بهن الجنة، ومن لقيني قد انتقص من ذلك شيئا فليس له عندي عهد، إن شئت عذبته، وإن شئت رحمته."الطيالسي، ومحمد بن نصر في كتاب الصلاة طب والضياء في المختارة عن عبادة بن الصامت".
18880 ۔۔۔ میرے پاس اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) تشریف لائئے اور فرمایا : اے محمد ! اللہ عزوجل فرماتا ہے : میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، جس نے ان کو ان کے وضوء ان کے وقت ، ان کے رکوع اور ان کے سجود کے ساتھ (اچھی طرح) پورا کیا تو ان نمازوں کا اس کے ساتھ عہد ہوگا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرائیں ۔ ور جو شخص مجھ سے اس حال میں ملا کہ اس نے ان میں کمی کوتاہی کی اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہ ہوگا ، اگر میں چاہوں گا تو اس کو عذاب دوں گا اور اگر چاہوں گا تو رحم کر دوں گا ۔ (الطیالسی ، محمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ ، الکبیر للطبرانی ، المختارۃ للضیاء عن عبادۃ بن الصامت)