18955- إذا توضأ أحدكم فأحسن الوضوء، ثم خرج إلى الصلاة لم يرفع قدمه اليمنى، إلا كتب الله عز وجل له حسنة، ولم يضع قدمه اليسرى إلا حط الله عز وجل عنه سيئة، فليقرب أحدكم أو ليبعد، فإن أتى المسجد فصلى في جماعة غفر له، فإن أتى المسجد وقد صلوا بعضا وبقي بعض، صلى ما أدرك وأتم ما بقي كان ذلك، فإن أتى المسجد وقد صلوا فأتم الصلاة كان كذلك. "د هق عن رجل من الأنصار".
18955 ۔۔۔ جب کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے وہ بھی دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اللہ پاک اس کے لیے نیکی لکھتا ہے اور جب بھی بایاں قدم نیچے رکھتا ہے تو اللہ پاک اس کے لیے اس سے ایک برائی مٹا دیتا ہے۔ پس جو چاہے ۔ (مسجد کے) قریب ہوجائے یا دور ہوجائے ۔ پھر اگر وہ مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اگر مسجد میں پہنچ کر معلوم ہو کہ کچھ نماز پڑھی جا چکی ہے اور کچھ باقی جماعت کے ساتھ پڑھ لے اور خود کی باقی بعد میں پوری کرلے ۔ پھر اگر مسجد میں آئے اور نمازی نماز پڑھ چکے ہوں تو اپنی نماز پوری کرلے ۔ (ابوداؤد ، السنن للبیہقی عن رجل عن الانصار)