18994- أما الوضوء فإنك إذا توضأت فغسلت كفيك فأنقيتهما خرجت خطاياك من بين أظفارك وأناملك، وإذا مضمضت واستنشقت منخريك، وغسلت وجهك ويديك إلى المرفقين، ومسحت رأسك وغسلت رجليك إلى الكعبين اغتسلت من عامة خطاياك، فإذا أنت وضعت وجهك لله عز وجل خرجت من خطاياك كيوم ولدتك أمك. "ن طب عن أبي أمامة عن عمرو بن عبسة".
18994 ۔۔۔ وضو کرتے وقت جب تو اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے اور ان کو رگڑتا ہے تو تیری ہتھیلیوں کے گناہ تیرے ناخنوں اور تیرے پوروں سے نکل جاتے ہیں۔ جب تو کلی کرتا ہے اور ناک کے دونوں نتھنوں کو پانی چڑھتا ہے اور صاف کرتا ہے ، پھر چہرے کو دھوتا ہے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوتا ہے ، پھر مسح کرتا ہے اور پیروں کو ٹخنوں تک دھوتا ہے تو درحقیقت اپنے تمام گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔ پھر جب تو اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے آگے رکھ دیتا ہے تو اس دن کی طرح گناہوں سے بالکل صاف ستھرا ہوجاتا ہے جس دن تیری ماں نے تجھے جنم دیا تھا ۔ (نسائی ، الکبیر للطبرانی عن ابی امامۃ عن عمرو بن عبسہ)