19027- الصلوات الخمس كفارة لما بينها، أرأيتم لو أن رجلا كان له مغتسل بين منزله ومعتمله خمسة أنهار، فإذا انطلق إلى معتمله عمل فيه ما شاء الله فأصابه الوسخ والعرق، فكلما مر بنهر اغتسل ما كان ذلك يبقي من درنه؟ وكذلك الصلوات كلما عمل خطيئة أو ما شاء الله ثم صلى ودعا واستغفر غفر له ما كان فيه. "طس عن أبي سعيد".
19027 ۔۔۔ پانچ فرض نمازیں درمیانی اوقات کے لیے کفارہ ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی کے گھر اور دکان کے درمیان پانچ نہریں پڑتی ہوں ۔ اور وہ دکان میں کام کاج کرتا ہو جس کی وجہ سے اس کے بدن پر میل کچیل جمع ہوجاتا ہو اور وہ گھر واپسی کے دوران ہر نہر پر غسل کرتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا ؟ اسی طرح پانچ فرض نمازوں کا حال ہے جب بھی نمازی سے کوئی خطاء سرزد ہوجاتی ہے پھر وہ نماز پڑھ کر دعا استغفار ہے تو اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (الاوسط للطبرنی عن ابی سعید (رض) 9